Allama Iqbal Poetry In Urdu | New Allama Iqbal Best Shayari

We have the latest collection of Allama Iqbal poetry in Urdu to show emotion and express feeling for Islamic history in Urdu. If u like 2 line Shayari of Allama Iqbal poetry in Urdu for Pakistan so get here the latest collection of Allama  Iqbal Shayari in Urdu SMS text messages.

Best Allama Iqbal Poetry In Urdu Available. Allama Iqbal Is Our National Poet, born on November 9, 1877 in a Muslim family at Sialkot.

Allama Iqbal Shayari Urdu

Allama iqbal poetry in urdu

اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں دیرینہ روزی: لمبی عمر۔
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے چشم بینا: دیکھنے والی آنکھ۔
امتحان دیدئہ ظاہر میں کوہستاں ہے تو پاسباں اپنا ہے تو، دیوار ہندستاں ہے تو دیدئہ: آنکھ۔
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو دامن کش: دامن کھینچنے والا۔
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر دستار فضیلت: برتری کی پگڑی۔ کلاہ مہر عالم تاب: دنیا کو روشن کرنے والے سورج کی ٹوپی۔
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن ثریا: دو ستارے جو بہت دور ہیں۔ پہنائے فلک: آسمان کی وسعت۔
چشمہ دامن ترا ئنہ سےال ہے دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے ا ئنہ سیال: بہنے والا؛ رواں۔
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے کوڑا۔ تازیانہ رہوار ہوا: ہوا کا گھوڑا۔
Allama Iqbal Poetry Urdu Text

Allama iqbal shayari

اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی، جسے دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے بازی گاہ: کھیل کی جگہ، کھیل کا میدان۔
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر فیل: ہاتھی۔ فرط طرب میں: بے حد خوشی میں۔
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی جھومتی ہے نشہ ہستی میں ہر گل کی کلی موج نسیم جنبش : ہوا کی لہر کی رواانی۔ گہوارہ: جھولا۔
یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی برگ: پتّہ۔ دست گلچیں: پھول چننے والے ہاتھ۔
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا کنج خلوت خانہ قدرت ہے کاشانہ مرا کاشانہ: ٹھکانہ، گھر۔
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی ہوئی فراز کوہ: پہاڑ کی بلندی۔
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی سنگ رہ سے گاہ بچتی، گاہ ٹکراتی ہوئی شاہد قدرت: قدرت کی خوبصورتی؛ مراد ہے معشوق۔
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو عراق: موسیقی کا ایک راگ۔
لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا تکلم: گفتگو۔

Allama iqbal ki shayari

کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر غازہ: چہرے پر استعمال کا پوڈر۔
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا مسکن: رہنے کی جگہ۔ آبائے انساں: انسان کے باپ دادا۔
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا داغ جس پر غازئہ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور!پھر وہ صبح و شام تو دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہیں اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں شناسا: واقف، جاننے والا۔ عقدئہ مشکل: وہ گتھی جسے سلجھانا آسان نہ ہو۔ گل رنگیں: رنگوں بھرا پھول۔
زیب محفل ہے، شریک شورش محفل نہیں یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں زیب محفل: محفل کی زینت۔ فراغت: فرصت، مہلت۔
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو اور تیری زندگانی بے گداز آرزو گداز: نرم، گھولنا۔
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
آہ! یہ دست جفاجو اے گل رنگیں نہیں کس طرح تجھ کو یہ سمجھائوں کہ میں گلچیں نہیں گل رنگیں: رنگوں بھرا پھول۔ گلچیں: پھول چننے والا۔
کام مجھ کو دیدئہ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا دیدئہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا دیدئہ حکمت: تدبیر والی آنکھ۔

Allama iqbal poetry in urdu for students

سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے مستور: چھپا ہوا۔
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں زخمی شمشیر ذوق جستجو: تلاش کے شوق کی تلوار کا زخمی۔
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو سامان جمعیت: سکون اور تسلی کا سبب۔ چراغ خانہ حکمت: عقل و دانش کے گھر کا چراغ۔
ناتوانی ہی مری سرمایہ قوت نہ ہو رشک جام جم مرا آ ینہ حیرت نہ ہو جام جم: جمشید بادشاہ کا پیالہ۔
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے ادراک: عقل۔ توسن: گھوڑا۔
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے دیار نو: نیا شہر۔ آغوش مادر: ماں کی گود۔
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر آواز پا: پاؤں کی آہٹ۔

Allama iqbal sher

پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر دروغ مصلحت آمیز: اچھا نتیجہ پیدا کرنے والا جھوٹ۔
آنکھ وقف دید تھی، لب مائل گفتار تھا دل نہ تھا میرا، سراپا ذوق استفسار تھا وقف دید: دیکھنے میں مصروف۔
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو، بزم سخن پیکر ترا زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر خندہ زن ہے غنچہ دلی گل شیراز پر

Allama Iqbal Poetry In Urdu: If you want to read or see more poetry then visit our website other pages related to poetry on Google. Where you can get Urdu Poetry, Attitude Poetry UrduSad Poetry UrduLove Poetry UrduRomantic Poetry Urdu, Eid Poetry Urdu, Bewafa Poetry Urdu, Funny Poetry Urdu, Friendship Poetry Urdu, Good Night Poetry, BirthDay Poetry Urdu, Rain Poetry Urdu, Death Poetry Urdu and much more on our website.

Iqbal poetry in urdu text

آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے شمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے
اے جہان آباد، اے گہوارہ علم و ہنر ہیں سراپا نالہ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمں و قمر یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟ تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا فلک بوس: آسمان کو چومنے والا یعنی بہت بلند۔ گل پاش: پھول برسانے والا۔
کبھی صحرا، کبھی گلزار ہے مسکن میرا شہر و ویرانہ مرا، بحر مرا، بن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو

Allama iqbal quotes in urdu

مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے درافشاں ہونا ناقہ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا ناقہ: اونٹنی۔ درافشاں: موتی بکھیرنا۔
غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
بن کے گیسو رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں شانہ موجہ صرصر سے سنور جاتا ہوں شانہ موجہء صرصر: ہوا کا جھونکا۔
دور سے دیدہ امید کو ترساتا ہوں کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سیر کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں لب جو: ندی کنارے۔
سبزہ مزرع نوخیز کی امید ہوں میں زادہ بحر ہوں پروردہ خورشید ہوں میں مزرع نوخیز: نئی اگی ہوئی کھیتی۔ زادہ بحر: جو سمندر سے پیدا ہوا ہو۔
چشمہ کوہ کو دی شورش قلزم میں نے اور پرندوں کو کیا محو ترنم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے غنچہ گل کو دیا ذوق تبسم میں نے قم: اٹھ، کھڑا ہو۔
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے جھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں کے شبستانوں: امیر لوگوں کے سونے کی جگہ۔
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا

Allama iqbal shayari in urdu

لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت بھولے سے کبھی تم نے یہاں پائوں نہ رکھا کٹیا: جھونپڑی۔
غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
آئو جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا، پھر نہیں اترا
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!
اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا

Allama iqbal ke sher

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
مکھی نے کہا خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن میں آپ کے گھر آئوں، یہ امید نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ! اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا

Iqbal shayari in urdu

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
تھے اناروں کے بے شمار درخت اور پیپل کے سایہ دار درخت
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندی کے پاس اک بکری چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھک کر اسے سلام کیا پھر سلیقے سے یوں کلام کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.