New Ahmad Faraz Poetry In Urdu 2022 | Faraz Shayari

Ahmad Faraz Poetry: Ahmad Faraz was one of the great Urdu poets of the 20th century, Born on January 12, 1931, in Kohat. Faraz is his pseudonym ‘takhalus’. He was often called a ‘people’s poet’ who spoke of butterflies, fireflies, and romance and sometimes called a ‘rebellious poet’ for hailing revolution. 

Ahmad Faraz Poetry: Faraz began his poetry career from his college life with the Tanha Tanha ghazal collection. His poems were sung by singers, including Mehdi Hassan with Ranjish he sahi and Silsilay Tor Gaya by Noor Jahan. Beauty and Love were the main themes of Ahmad Faraz’s poetry. Faraz is credited for writing Sab Awazain Meri, Pas Andaaz, Khuwab Gul, Ghazal Bahana Karon and Janan Janan,.

Ahmad Faraz Shayari

Ahmad Faraz Poetry

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا احمد فراز
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے احمد فراز
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں احمد فراز
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ احمد فراز
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے احمد فراز
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ احمد فراز
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی احمد فراز
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے احمد فراز
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں احمد فراز
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا احمد فراز
Ahmad Faraz Poetry Urdu

Aahmad faraz shayari

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے احمد فراز
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا احمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا احمد فراز
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں احمد فراز
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے احمد فراز
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں احمد فراز
مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے احمد فراز
اجاڑ گھر میں یہ خوشبو کہاں سے آئی ہے کوئی تو ہے در و دیوار کے علاوہ بھی احمد فراز
زندگی پھیلی ہوئی تھی شام ہجراں کی طرح کس کو اتنا حوصلہ تھا کون جی کر دیکھتا احمد فراز

Faraz shayari

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے احمد فراز
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا احمد فراز
اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم احمد فراز
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا احمد فراز
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں احمد فراز
چاند سے میں نے کہا اے مری راتوں کے رفیق تو کہ سرگشتہ و تنہا تھا سدا میری طرح احمد فراز
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں احمد فراز
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم احمد فراز
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں احمد فراز

Ahmad faraz best poetry

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو احمد فراز
اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے احمد فراز
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ احمد فراز
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں احمد فراز
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی احمد فراز
قاصدا ہم فقیر لوگوں کا اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں احمد فراز
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا احمد فراز
سائے ہیں اگر ہم تو ہو کیوں ہم سے گریزاں دیوار اگر ہیں تو گرا کیوں نہیں دیتے احمد فراز
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آئے ہی نہیں اب کے گلابوں والے احمد فراز
فرازؔ تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو احمد فراز

Ahmad faraz ghazal

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا احمد فراز
میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے احمد فراز
تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے احمد فراز
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی احمد فراز
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی احمد فراز
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو احمد فراز
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا احمد فراز
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے احمد فراز
تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے احمد فراز
مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں احمد فراز

Ahmad Faraz Poetry: Ahmad Faraz’s poetry was highly popular among the general public in Pakistan, India as well as among the subcontinent’s immigrant populations overseas. He was a poet in high demand at social gatherings (mushairas) where he would recite his poetry in his own voice. Ahmad Faraz was often compared to Muhammad Iqbal and Faiz Ahmed Faiz.

Ahmad faraz sher

سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہے زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا احمد فراز
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں احمد فراز
سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی احمد فراز
اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے احمد فراز
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا احمد فراز
ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے احمد فراز
یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے یہی دھواں مرے دیوار و در سے نکلا تھا احمد فراز
ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے احمد فراز
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم احمد فراز
میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا احمد فراز

Ahmad faraz sad poetry

زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔ اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز
یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست احمد فراز
تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں احمد فراز
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے احمد فراز
لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا احمد فراز
یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے احمد فراز
کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ احمد فراز
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا احمد فراز
اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمد نہ مسیح آسمانوں سے نئے لوگ اتارے جائیں احمد فراز
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ احمد فراز

Ahmad faraz quotes

نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے احمد فراز
سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے احمد فراز
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے احمد فراز
یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے احمد فراز
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے احمد فراز
ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ احمد فراز
کس کو بکنا تھا مگر خوش ہیں کہ اس حیلے سے ہو گئیں اپنے خریدار سے باتیں کیا کیا احمد فراز
میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے احمد فراز
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے ساقی ترے مے خوار بڑی دیر سے چپ ہیں احمد فراز
تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئی میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست احمد فراز

Ahmad faraz ki shayari

کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے احمد فراز
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ احمد فراز
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے احمد فراز
مجھ سے بچھڑ کر تو بھی تو روئے گا عمر بھر یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں احمد فراز
دو گھڑی اس سے رہو دور تو یوں لگتا ہے جس طرح سایۂ دیوار سے دیوار جدا احمد فراز
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے احمد فراز
تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو احمد فراز
وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گلہ تو اس کا ہے کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی احمد فراز
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے احمد فراز
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے احمد فراز

Afaraz in urdu

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے احمد فراز
کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے احمد فراز
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں احمد فراز
محبت ان دنوں کی بات ھے فراز جب لوگ سچے اور مکان کچے تھے احمد فراز
جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو احمد فراز
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے احمد فراز
چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش پا کی طرح احمد فراز
جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا احمد فراز
طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں شدت تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں احمد فراز

Ahmad Faraz Poetry: Ahmad Faraz Poetry: Earlier in 2008, after a fall in Baltimore, Maryland, there were false rumors of his death while he was being treated in a Chicago hospital. But he was able to return to Pakistan. Then later, Ahmad Faraz died of kidney failure, in a private hospital in Islamabad on 25 August 2008, confirmed by his son Shibli Faraz. His funeral was held on 26 August, among many admirers and government officials at H-8 Graveyard, Islamabad. Faraz is included in the long list of revolutionary poets of Urdu language.

Ahmad faraz best poetry in urdu

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں احمد فراز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے احمد فراز
تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست تو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست احمد فراز
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستا ہو جائیں احمد فراز
ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں احمد فراز
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے احمد فراز
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں احمد فراز
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے احمد فراز
فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے احمد فراز

Ahmad faraz poetry

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائے یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے احمد فراز
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں احمد فراز
کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی احمد فراز
فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے احمد فراز
مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی احمد فراز
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا احمد فراز
جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں احمد فراز
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا احمد فراز
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی احمد فراز
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا احمد فراز

Ahmad faraz Poetry

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں احمد فراز
دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو احمد فراز
اس سے بڑھ کر کوئی انعام ہنر کیا ہے فرازؔ اپنے ہی عہد میں ایک شخص فسانہ بن جائے احمد فراز
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں احمد فراز
اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت ترک محبت کرنے والو تم تنہا رہ جاؤ گے احمد فراز
ہجوم ایسا کہ راہیں نظر نہیں آتیں نصیب ایسا کہ اب تک تو قافلہ نہ ہوا احمد فراز
بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے احمد فراز
یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدا لیکن اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جدا احمد فراز
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا احمد فراز

Faraz shayari on love

کسی دشمن کا کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک دیکھنا اب کے مرا دوست کماں کھینچتا ہے احمد فراز
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا احمد فراز
میں بھی پلکوں پہ سجا لوں گا لہو کی بوندیں تم بھی پا بستہ زنجیر حنا ہو جانا احمد فراز
میں خود کو بھول چکا تھا مگر جہاں والے اداس چھوڑ گئے آئینہ دکھا کے مجھے احمد فراز
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبر چلو فرازؔ کو اے یار چل کے دیکھتے ہیں احمد فراز
جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے احمد فراز
جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے احمد فراز
رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے احمد فراز
جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل کیا خبر اہل محبت کا ترانہ بن جائے احمد فراز
پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں احمد فراز

Faraz sad poetry

کون طاقوں پہ رہا کون سر راہ گزر شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے احمد فراز
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں احمد فراز
فرازؔ تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے احمد فراز
فضا اداس ہے رت مضمحل ہے میں چپ ہوں جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو احمد فراز
اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا احمد فراز
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے احمد فراز
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے احمد فراز
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ احمد فراز
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے احمد فراز
لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں ساقیا ساقیا سنبھال ہمیں احمد فراز

Zindagi poetry faraz

مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاب بزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو احمد فراز
اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی احمد فراز
وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے اسے خبر ہی نہیں میں نہیں رہا اس کا احمد فراز
وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے احمد فراز
اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے احمد فراز
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں احمد فراز
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا احمد فراز
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو بہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو احمد فراز
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں وہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو احمد فراز
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا احمد فراز
Bewafa Poetry In Urdu

Ahmad Faraz Poetry

ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے احمد فراز
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو احمد فراز
وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے احمد فراز
رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا احمد فراز
یہ کون پھر سے انہیں راستوں میں چھوڑ گیا ابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا احمد فراز
ہو دور اس طرح کہ ترا غم جدا نہ ہو پاس آ تو یوں کہ جیسے کبھی تو ملا نہ ہو احمد فراز
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو احمد فراز
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا احمد فراز
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے احمد فراز

Leave a Reply

Your email address will not be published.